خاور فرید مانیکا اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کی تلخی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
خاور فرید مانیکا اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کی تلخی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔5اگست کی رات بشریٰ بی بی کی پاکپتن مزارپر آمد متوقع تھی ،پولیس کو سیکورٹی کی ہدایت کی گئی۔
خاور فرید مانیکا اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کی تلخی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔5اگست کی رات بشریٰ بی بی کی پاکپتن مزارپر آمد متوقع تھی ،پولیس کو سیکورٹی کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق 5اگست کو 8 بجے رات اسپیشل برانچ نے آگاہ کیا کہ بشریٰ بی بی پیدل چل کر دربار پہنچیں گی،اس رات بشریٰ بی بی تو نہیںآئیں لیکن ان کی بیٹی مبشرہ اور بیٹاابراہیم وہاں پہنچے ،وہ واقعے سے 2روز قبل لاہور سے پیدل روانہ ہوئے تھے ۔
آر پی او ساہیوال نے ڈی پی او رضوان گوندل کو سیکورٹی دینے کی ہدایت کی تھی ،پاکپتن روڈ پر پولیس پہنچی تو پتہ چلا کہ بشریٰ بی بی نہیں بلکہ ان کی بیٹی اور بیٹا ہیںاور دونوں نے سیکیورٹی لینے سے انکار کردیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پاکپتن روڈ پر پولیس دوبارہ پہنچی تو پٹرولنگ پولیس والے ان سے بدتمیزی کرتے پائے گئے ، خاور فریدی مانیکا بھی اطلاع ملنے پر وہاں پہنچ گئے ۔
ذرائع کے مطابق خاور فرید مانیکا نےپولیس سے بدتمیزی کی ، ڈی پی او کو فون کرکے پولیس کی بدتمیزی کی شکایت کی ،جس پر رضوان گوندل نے معاملہ رفع دفع کرادیا اور تحریری شکایت کرنے کا کہہ دیا ۔
خاور فرید مانیکا کی تحریری شکایت نہ کرنے پر ڈی پی او نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی واقعے سے آئی جی پنجاب کو آگاہ کیا ،یوں پٹرولنگ پولیس بشریٰ بی بی کے بیٹے اور بیٹی سے بدتمیزی کے باوجود کارروائی سے بچ گئی ۔
پولیس ذرائع کے مطابق23 اگست کو خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے کی کوشش کے بعد 5اگست کا واقعہ دوبارہ سامنے آیا ،خاور مانیکا نے ناکے پر کار نہیں روکی تو پولیس نے پیچھا کر اسے روکا،جس پر پولیس کو گالیاں دی گئیں،ڈی پی او رضوان گوندل نے خاور مانیکا کے فون پر پولیس سے کہا کہ انہیں جانے دیں ۔